18.2 C
Chakwal, PK
Monday, October 24, 2016


Americans in the eye of History.. Episode 01


(?How did Columbus discover New World)

Episode: 01

In the globalized world of today, everyone talks about superpowers and leaders, ruling the world so white house through all contexts is reigning and dictating other countries of globe, but on the parallel British and some other nations have prolonged and conquering history; why Americans are clutching such title and what are those facts, bolstering America day by day in race of information and technology? All of these queries are compelling to introspect about Americans background and their approaches towards culmination. Starting through ancient discovery of America; at the height of ice age about 35000 years ago, when much of world’s water was locked up in continental ice sheets, a land bridge(1500 Km) was there connecting Asia and North America. By 12000 years ago, Human beings were living in western Hemisphere. In 2500 BCE,A group of nomads, moving from India crossed acute bridge and reached north of America, the place now is called Alaska. They then moved south into land that was to become the United States and settled along pacific ocean in the Northwest, in the mountains and deserts of the Southwest, and along the Mississippi river in the Middle West. Amid early settlers of America, there were Hohokam, Adenans, Hopewellians and Anasazi and did everything for their livings in that part of exploring era.

Until the 15th century, Europeans believed that there were only three continents in the world; Europe, Asia and Antartic. With passage of time, Europeans started trading with Asia especially India, but owing to clashes of European and ottoman Empire; formers had to suffer from killing, either they were passing through land routes or ocean. Then, European rulers asked for navigating shortest possible route to India and Christopher Columbus came up with idea. He believed that sailing west across the Atlantic ocean was the shortest possible route to Asia and was ready to sail for whatever country would pay for his voyage. Either because of his arrogance or ambition, he found it difficult to find a patron and was refuted by the Portuguese,  the British and the French. Having influential patronage from court, Columbus kindled King Ferdinand and queen Isabella of Spain to partially underwrite his expedition.

Furthermore, In 1492, Columbus started his journey with crew member and reached north of America, when he peeped into acute Island  and found other civilizations looking like Indians, he enthusiastically declared that he had found India.  Columbus called native of America as red Indians thinking that he had landed in India and those people were Indians. Four civilizations were living in America earlier like Mayas, Red Indians, Aztecs and Incas. Meanwhile, many people visited this part of Columbus’s India, but another Italian navigator named Amerigo Vespucci sailed extensively along American Coast and was considered to be first to realize that America was in fact a “New World” and not part of Asia.

After visit, Amerigo published a document and instigated America on the map for first time, known parts of western hemisphere in 1507. So, after Amerigo, this place was named as; The Land of Americus, but with passage of phrase grasped a conversion to one word that was America. This was how, a new world clutched its introduction on the map of world. Question ambushing here is; what was the lesson learnt by European through this expedition of Columbus? Columbus imprinted two depictions on the world history, but peeping into positive aspect;   owing to his journey, Europeans of several countries began to look to expand outside of Europe for trade and exchange. European foods, animals, ideas and ideologies went from Europe to Western Hemisphere, at same time animals, plants, gold and some local customs and ideas came to Europe from Western Hemisphere; this was called Columbian exchange. The fact that Columbus is considered a historical hero is incredibly tumultuous to many. After landing at San Salvador in the Bahamas, he found gold on the island of Hispaniola that he carted back to Spain. He and his explorers lynched many natives and made thousands of them as slaves. On the other hand, he with his crew brought diseases, which slayed many native Americans as well.


ایک پاکستانی کو وطن سے محبت ایک ہندوستانی سے سیکھنی چاہیئے


پاکستان کی سیاسی اشرفیہ، بیو ر کریسی ،سفیر ، دانشور ، میڈیا اور ادیب ،کوئی بھی پاکستانیوں کو پاکستانیت نہیں سکھا سکا ۔کیوں ؟
کیوں کے پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ پاکستان کا نمک کھانے والے سب کے سب نمک حرام ہیں ۔ جس کو پاکستان نے جتنا نوازا ، اس نے اتنی ہی احسان فراموشی کی ۔ اعلی تنخوائیں اور مراعات لینے والے، دوسرے کی بے ایمانیوں پر لیکچر دیتے اورخود پارسا بن کر کہتے ہیں :
” اوہ ! پاکستان ہے ہی بڑا گندا ملک ۔”
اگر اتنا ہی گندا ہے تو اس کے بدن سے تعلیم ، عہدے ،نام اور تنخوائیں کیوں نوچتے رہے؟
جے گرے وال ( کینڈا میں بسنے والا ایک نوجوان سکھ لڑکا جو آذاد خالصتان کا خواب دیکھتا ہے )بڑی حیرت اور حسرت سے کہتا ہے :
“مجھے آپ کے پاکستانیوں پر حیرت ہو تی ہے کہ وہ اپنے گھر کی قدر نہیں کرتے اور اسے گالیاں دیتے ہیں ۔ہم سے پوچھیں پوری دنیا میں اپنا گھر نہ ہو نے کا کیا مطلب ہے؟ اپنا گھر مٹی کا بھی ہو تو اپنا ہی ہو تا ہے۔ ہمیں جناح نے ٹھیک کہا تھا کہ یہ ہندو تمھیں اپنا غلام بنا لے گا ، وہی ہوا ۔آج وہ کہتے ہیں سکھ ازم بھی ہندوازم ہی ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں ہے مگر ہماری آواز کوئی نہیں سنتا ، آپ اپنے جعلی دانشوروں سے کیوں نہیں کہتیں کہ یہاں بیٹھ کر انڈیا کی تعریفیں کر نے کی بجائے،جا کر بھارت میں رہ کر تو دیکھیں۔
جے کو کیا پتہ دنیا داری کے حساب سے پاکستان سے محبت سراسر گھاٹے کا سودا ہے ،جو مجھ جیسے چند سر پھرے ، بغیر کسی معاوضے یاذاتی نمائش کی لالچ کے بغیر کئے جا رہے ہیں کیونکہ یہ محبت ،میری ہے ، کسی پر احسان نہیں۔
کم ظرف عاشق محبوبہ سے پوچھتا ہے میرے لئے کیا کیا ، اعلی ظرف عاشق محبوبہ سے پوچھتا رہتا ہے بتاؤ تمھارے لئے کیا کرؤں ؟
ہمارے کم ظرف لوگ پاکستان سے سوال پوچھتے ہیں ہمارے لئے کیا کیا ؟ کھبی اپنے آپ سے یہ سوال نہیں پوچھتے کہ انہوں نے پاکستان کے لئے کیا کیا ؟
ہمارے سیاسی ،سرکاری ، ادبی لیڈر اپنی نااہلی،احساسِ کمتری اور بد نیتی کی وجہ سے ، پاکستان کی جو محبت لوگوں کے دلوں میں نہیں ڈال سکے ، وہ شائدگرے وال کی حسرت سے یا بھارتی صحافیوں ، دانشوروں ، ، حکمرانوں ، او اداکاروں کی اپنے وطن سے محبت دیکھ کر ان کے دلوں میں بھی اتر آئے۔
راجیش اوم پرکاش :”پاکستان گھس گھس کر حرکتیں کرتا ہے، دیش کو غصہ تو آئے گا جب اُڑی کیمپ میں ہمارے لوگ جل بھن جائیں گے ۔ امن کی بات خواب ہے ۔ ۔ جب ملک حالتِ جنگ میں ہو تے ہیں تو فنکار علیحدہ نہیں رہ سکتے ۔”
وارن دھوان : “ہم اپنی حکومت کے ساتھ ہیں ۔ وہ جو بھی کر یں ہم ساتھ ہیں ۔ ”
سیف علی خان: “ہم فنکار ہیں ،ہمیں محبت کی بات کر نی چاہیئے مگر حکومت فیصلہ کر ے گی ۔”
اعجاز خان : “پاکستان سے کوئی چیز نہیں لینی چاہئے ،کیوں لینی چاہیئے؟ کرن جوہر پاکستان سے لے آتا ہے ، شاہ رخ خان سے یہی کہوں گا یہاں لڑکیاں مر گئی ہیں کیا جوپاکستان سے لے آتے ہو؟ ۔ ابھی جو فلمیں بنا گئے ہیں چلنے دو ، ورنہ ہندوستان کا نقصان ہو گا ۔ ”
جان ابراہام: “ہم اپنے ملک ،اپنے سپاہیوں ،اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ہمیں انڈین آرمی پر فخر ہے۔
سناکشی : ہم اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں اور فوج کے شکر گذار ہیں کے انہوں نے سرجیکل اٹیک کیے ۔
اکشے کمار : ” میں فنکار کی حیثیت سے نہیں فوجی آفیسر کے بیٹے کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں ۔ آپ لوگوں کو پاکستانی فنکاروں کے بین ہو نے پر سوال کی پڑی ہے وہاں کسی جوان نے سر حد پر اپنی جان دے دی ہے ۔ ہمارے ہزاروں فوجیوں کو ہمارے مستقبل کی چنتا ( پریشانی )ہے ۔ فوج نہیں تو ہم نہیں ۔ ”
نانا پاٹیکر : “ہمارے فوجی جوان سب کچھ ہیں ۔ ہم نقلی لوگ ہیں ۔جو پٹر پٹر کرتے ہماری کوئی اوقات نہیں ۔ پاکستانی آرٹسٹوں کو، سلمان خان نے کہا ،حکومت نے ویزہ دیا ، وہ دہشت گرد نہیں ،ٹھیک ہے دیا مگر اب جب جنگ ہے تو ہمیں الگ ہو نا چاہیئے ،پہلے دیش پھر ہم ، دیش کے سامنے ہم کھٹمل ہیں ۔”
انو ملک : میں ہندوستان کی مٹی سے بنا ہوں ۔ ہندوستان ہے ، تو انو ملک ہے ۔ ہم وہی کر یں گے جو حکومت کہے گی ۔
نواز الدین ::دیش سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے ۔ اُڑی حملے کے بعد ان پاکستانی فنکاروں کو ملک سے باہر نکل جا نا چاہیئے ۔”
اجے دیو گن:”پاکستانی آتے ہیں ہمیں مار جاتے ہیں ۔ ہمیں تھپڑ مارتے ہیں ، ہمیں پھر بھی مذاکرات کر نے چاہیں ؟”
جیتندر: جو بھی دیش کے لئے فیصلے کر رہے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں ۔
سونالی باندرے : “پاکستانی ہمارے دوست نہیں ہیں ۔ ہمیں ان کے ساتھ کوئی بزنس نہیں کر نا چاہیئے ۔ ہم اپنی حکومت کے ساتھ ہیں ۔”
شیو سینا: “سلمان خان کو سبق سکھائے جانے کی ضرروت ہے ، وہ پاکستان چلے جائیں ۔
سنیل سیٹھی : “حکومت صحیح فیصلہ کر تی ہے ۔ جب تک حالات ٹھیک نہ ہوں ، پاکستانی فنکاروں کو دور رہنا چاہیئے۔”
راجو سری واستو:”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ اوم پوری کے بیان کی وجہ سے ہم سب فنکاروں کا سر شرم سے جھک گیا ۔ ان کی بجلی بھی کاٹ دینی چاہیئے اور ان کا حقہ پانی بند کر دینا چاہیے ، پٹرول ، ڈیزل بند کر دینا چاہئے ،کھاتے ہندوستان کا اور گاتے پاکستان کا ،کوئی لوگ کہتے ہیں اگر پاکستان نہ ہو تا تو ہم دیش بھگت ( محبِ وطن ) نہ ہو تے ، ارے! اگر ہم دیش بھگت ہوتے تو یہ پاکستان ہی نہ ہو تا۔ ۔انڈین آرمی سے کہتا ہوں سرجیکل ایٹک کر یں ۔۔ اورہمیں بھارتی سہنا(فوج ) پر اعتبار کر نا چاہیئے اور جو لوگ ان پر اعتبار نہیں کر تے وہ غدار ہیں ۔ ۔۔۔۔”
اوم پوری کا قصور بھی دیکھ لیتے ہیں……
ایک انتہائی شدت پسند میزبان ، جو انہیں سلمان خان کے اس بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ” پاکستانی فنکاروں کو حکومت کی اجازت سے بلا یا جا تا ہے اور فنکار دہشت گرد نہیں ہو تے”۔۔کی حمایت کرنے پر انتہائی بدتمیزی سے پوچھ رہا تھا کہ ایسا کیوں کیا۔
اوم پوری نے جواب دیا :
“کیا آپ چاہتے ہیں ہم اسرائیل اور فلسطین بن جائیں ،تواپنی سرکار سے کہیں ان کا ویزہ کینسل کریں ۔ کیوں پاکستانی کلاکار وں کو ویزہ دیتے ہیں ؟ انڈیا میں بائیس کروڑ مسلمان بھائی رہتے ہیں کیوں ان کو بھڑکا رہے ہو ؟ انڈیا جھوٹی فلمیں بنا کے پاکستان پر تھوپتا رہا ہے ”
ا س پروگرام میں میزبان سمیت جتنے لوگ تھے اوم پوری پر پِل پڑے ،کہا گیا آپ ایک گندے آدمی ہیں ۔ آپ نے ہمارے دیش کی گردن جھکا دی ،ہم آپ کو سنجیدہ سمجھتے تھے آپ کو دیش کو سمجھنے کی ضرورت ہے اتنا ہنگامہ شروع ہوگیاکہ اوم پوری کی آواز دب گئی ،انہوں نے کہا نوجوان نہ جائیں پھر فوج میں۔ کہنے کا مقصد تھا کہ فوج میں ہیں ، لڑائی ہو گی ، تو شہید ہو نگے مگر اس بات کو دیکھتے ہی دیکھتے اتنا غلط رنگ دے دیا گیا کہ اگلے ہی دن اوم پوری نے آن ائیر آکرفوج ، ہلاک ہونے والے فوجی کے گھر والوں سے ، پوری قوم سے کہا :
“میں اس جرم کی معافی نہیں مانگ رہا بلکہ اپنے آپ کو مجرم قرار دے کر سزا مانگ رہا ہوں ، میرا کورٹ مارشل ہو نا چاہیئے ۔ آرمی مجھ سے جوتے پالش کر وائے ،کھانا لگوائے ۔”
دوسری طرف عاطف اسلم سے ایک ہندوستانی رپوٹر پو چھتا ہے “ہم اپنی فلموں میں پاکستان کو گالیاں دیتے ہیں ۔ آپ لوگ انہی فلموں میں کام کر کے پیسے لیتے ہو ، کیسا لگتا ہے اپنے دشمن دیش کے ساتھ بیٹھ کے اپنے دیش کو گالی کھاتے دیکھنا؟”
عاطف: فنکار کی کوئی سیما نہیں ہو تی ، کوئی مذہب نہیں ہو تا ، کوئی زبان نہیں ہو تی ۔”
فوا د خان کاایک ڈرامے کا ڈائلاگ ہے:”وہ لاکھ دفعہ ناراض ہو تی ،میں لاکھ دفعہ مناتا رہتا ، مگر یہ جو اس نے اپنی دولت سے میری عزتِ نفس کا سودا کرنے کی کوشش کی ہے،اسے معاف نہیں کر سکتا .”
کاش فواد خان اور دوسرے پاکستانی اداکاروں کی یہ عزتِ نفس حقیقی زندگی میں بھی زندہ ہوتی ، جو انڈیا کی محبت میں دفنا دی گئی ہے ۔

شرعی ٹھیکیداران. … مفت و مفتی


مفت و مفتی کی اصطلاح آپ نے بھی بہت بار سنی ہو گی۔ہر وہ کام جس میں آپ کی جیب ہلکی نہ ہو اور قائد اعظم آپ کی جیب میں استراحت فرماتے رہیں اسے مفت ومفتی کام ہونا کہتے ہیں ۔ مفت ومفتی کام اب تو زمانہ قدیم کی بات لگتی ہے کیونکہ آج کے دور میں اگر کوئی کام مفت میں ہو جائے تو چند ثانیہ نہ تو یقین آتا ہے اور نہ ہی دل مانتا ہے کہ سچ میں یہ کام ہو گیا ہے۔ آج کے دور میں مفت اگر کوئی کام ہوتا ہے تو وہ ہے تبصرہ یا تنقید و رائے زنی ۔ یعنی زبان کو زحمت دینے میں کوئی روپے خرچ نہیں ہوتے اگر میں کہوں اس زبان کو ہلانے کی بھی کچھ لوگ قیمت بلکہ بھاری اجرت وصول و طلب کرتے ہیں تو آپ بے اختیار میرے ہم خیال ہو جائیں گے جیسے ٹی وی اینکرز ۔ نکاح کے بارے میں فرمانِ نبی ﷺہے النکاح من السنتی ۔ اور سنت کی ادائیگی کار ثواب و کار خیر ہے لیکن آج کل یہ سنت ادا کرنا بہت مہنگا پڑتا ہے۔ جی آپ کی سوچ کا زاویہ درست سمت میں جا رہا ہے اس صف میں ایاز کے ساتھ محمودہیں مفتی و عالم حضرات ۔۔
بھاری فیسیں وصول کرنا ، امپورٹڈ کپڑے پروٹوکول میں آمدورفت پر تعیش زندگی گزارتے ہوئے سادگی پر بھرپور تقریر کرنا انھی حضرات کا خاصہ ہے۔ بے حد معذرت خواہ ہوں اگر میرے الفاظ سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے ۔ میرا مقصد دل آزاری نہیں حقائق کی نقاب کشائی ہے۔ جن سے ہم اکثر چشم پوشی کرجاتے ہیں ۔ آواز اٹھانے کو گناہِ عظیم تر تصور کرتے ہیں۔ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا ، ان کا عمل دخل ہماری زندگیوں میں نمک کی طرح اہم ہے۔ حالانکہ ان میں سے اچھے اور راست مفتیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مفتی حضرات کی ایک شرارت سے آگاہ کرتی چلوں کہ جہاں آدھی بات بتانی ہے وہاں پوری اور جہا ں مکمل تفصیل درکار ہے وہاں تخصیص سے کام لیتے ہیں جیسے اک عورت نے طلاق کی عدت سے متعلق معلومات چاہی تو تفصیلی فتویٰ جاری ہو۔ ا ک تین ماہ کی مدت ہے۔.نامحرم کا سامنا نہ ہو۔بہت سی شرائط لکھی گئی تھیں ۔ پھر آخری جملہ ملاحظہ ہو کہ مرد چاہے تو فوراًشادی کر لے۔ بندہ ان سے سوال کرے کہ محترم جب بی بی نے آپ سے آپ سے اپنے متعلق پوچھا تو اتنا ہی بتاؤ نا۔کیوں دل جلا رہے ہو کہ تم پر اتنی پابندیاں اور وہ مرد جس نے تم پے طلاق تھوپ کر تمھاری زندگی اجیرن کر دی وہ چاہے تو فوری نئی زندگی کی ابتداء کر کے خوشیوں کے ھنڈولے میں جھول سکتا ہے۔ اب مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے۔ بس اتنا ہی بتاتے ہیں حالانکہ یہ وہ معلومات ہیں جس کا ادھورا پہنچانابے ایمانی اور غلط ہے۔ مکمل بتاؤ نا کہ شرائط کیا کیا ہیں اور پہلی بیوی کے حقوق کیا کیا ہیں؟ اسلام نے جتنے بیوی کے حق رکھے اگر مرد وہ پورے کرنے پے آئے تو داڑھ تک پسینے میں ڈوب جائے۔ مثلاًبیوی کو الگ گھر ،خدمت کے لیے ملازم کی فراہمی،.بیوی کی خوشنودی ، حتیٰ کہ تمھارے ماں باپ کی خدمت یا تمھاری خدمت کرنا بھی اس پر فرض نہیں۔ ہاں اگر وہ ایسا کر رہی ہے تو تمھارا ممنون ہونا بنتا ہے۔ اکڑنا نہیں ۔ پھر یہ کہ اگر وہ تمھارا بچہ پیدا کر دے تو اس کی رضاعت سے انکاربھی کر سکتی ہے۔ اپنے بچے کی رضاعت کے لیے کسی کو یا بیوی کو ہی اجرت دینا شوہر کا فرض ہے ۔پھر اگر طلاق ہے تو بیوی کا نان نفقہ پورا کرنا بھی مرد کے فرائض میں شامل ہے۔ کتنے مفتی حضرات نے آج تک جمعے کے خطبات میں کبھی یہ بات ارشاد فرمائی ۔ ہاں چار شادیوں کی اجازت ہے اگر پہلی بیوی بانجھ ہے، بدشکل بدزبان ہے۔. حسب و نسب میں کم ترہے۔ ازدواجی حقوق ادا کرنے سے کسی مستقل بیماری کی وجہ سے قاصر ہے۔ میں ابھی بھی ادھورا چھوڑ رہی ہوں کہ شاید باقی باتوں پہ کبھی مفتی حضرات تفصیلاً روشنی ڈالیں ۔
آج جنت کی شارٹ کٹ کنجی مدرسہ میں داخلے کو سمجھا جاتا ہے۔ پرانے وقتوں کے مولوی حضرات کے دل خوف خدا سے معمور اور روشن پیشانیوں والے تھے ۔ مال ودولت اور جاہ وجلال سے کوسوں دور بھاگتے تھے ۔ انھوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے نام وقف کر کے اللہ کے ہاں مقام پایا۔.اپنی ضرورت سے بڑھ کے نہ لیا۔ جبکہ آج کل مفتی محض نام کے مفتی ہیں۔ یہ تو اتنے مہنگے ہیں کہ ماں کے پیٹ سے بھی بذریعہ آپریشن برآمد ہوتے ہیں اور اب تاعمر لوگوں سے اس خرچے کو وصول کر رہے ہیں۔ .مجالس کا اہتمام ہو یا نعت خوانی کا، بھاری فیس کا مطالبہ پہلے کیا جاتا ہے۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ ایک مناسب حد تک اپنا خرچ وصول کرنا جائز ہے مگر لاکھوں وصول کرنا رواداری نہیں غلط ہے۔ میانہ روی کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ قرآن و سنت تو میانہ روی پہ متفق ہیں۔ ارے اللہ کے نامعقول بندو ! اب تو ڈاکٹروں نے بھی لاکھوں میں فیس لینا بند کر دی جن کا شیوہ ہی کھال اتارنا ہے۔ آج کل مفتی صاحبان سے کوئی بات پوچھ لیں توپہلے بغور معائنہ کریں گے کہ اتنا عقلمندانہ سوال کرنے کی آپ کی جرات کیسے ہوئی؟ پھر قران پاک کی کوئی غیر متعلقہ ایسی تاویل آپکی سماعتوں میں انڈیلیں گے کہ آپ اپنا سر تو پیٹ ہی لو بلکہ دل چاہے کہ ان حضرت کو بھی ۔۔۔۔۔ سمجھدار کو اشارہ کافی ۔
صوفی برکت آف دالووال سے کون واقف نہیں. بچپن میں امی کے سکول ٹیچر ہونے کی وجہ سے ہمیں دالووال کے قریبی گاؤں میں رہنا پڑا تھا۔ ایک دن دل میں عجیب سی بے چینی لگی تو گھر والوں کے ساتھ دربار گئی۔ تب بابا جی حیات تھے تاہم علیل تھے ۔انکو وہیل چئیر پر خادم باہر لاتے اور وہ زائرین کے مسائل سنتے ، دعا کرتے ۔ بہت سے لوگ فیض یاب ہوئے۔.مجھے یاد ہے میں نے مغرب کی نماز وہیں ادا کی، ورد سنا اور ہم گھر واپس آگئے۔ برسوں بعد دل نے وہی بے چینی محسوس کی۔ لاہور سے رخت سفر باندھا سیدھا دالووال ۔ ویسا ہی پر نور راحت آمیز سماں مگر کچھ جدید تبدیلیوں کے ساتھ ۔ باباجی کے وصال کے بعد گرل لگا کر باغ کوپرشکوہ مزارمیں تبدیل کر دیا گیا تھا،دل میں ڈھیروں عقیدت اور پرشوق نظر سے میں اس نفاست و خوبصورتی کو سراہ رہی تھی۔ ارادہ تھا کہ اندر جاکر فاتحہ اور سورۃ یٰسین پڑھوں گی جو کہ ہر دربار ہ،ر بارگاہ پر میرا معمول ہے۔ سیڑھی پر پاؤں رکھا ہی تھا کہ کڑک دار آواز میں گارڈ نے روکا ۔ بی بی اسوقت اندر جانا منع ہے ۔استفسار پر علم ہوا کہ انتظامیہ نے نماز عصر کے بعد عورتوں کے مزار پر جانے کی پابندی لگا رکھی ہے۔ انتظامیہ کے موقف کے مطابق ہم نے اللہ کے حکم کے مطابق پابندی لگائی ہے۔ بھئی درست ہے کہ اللہ نے عورتوں کے قبرستان جانے پر پابندی لگائی ہے۔ مگر اولیا ء اللہ تو غالبا اس شرط سے مبرا ء قرار ہیں۔ معاذاللہ میں کوئی فتویٰ جاری نہیں کر رہی، محض یہ واضح کرنا چاہ رہی ہوں کہ صوفی صاحب کے وصال کے بعد انتظامیہ کے خود ساختہ اصول جن کو شاید صوفی صاحب نے بھی ناپسند کیا ہو گا، آج وہاں رائج ہیں۔ اپنے غصے اور آواز کو تو قابو کر لیا۔ وفور جذبات سے چھلکتی آنکھوں کو قابو نہ کر سکی۔ خوب رو کے بھڑاس نکالی ۔ دل ہلکا ہوا تو اگلی بار جلدی آنے کا ارادہ مصمم کرکے واپس سدھاری۔ چلیں یہ آج آپ نے وہ پڑھا جو بہت لوگوں کے ساتھ ہوا۔ مگر ان کے خلاف آواز نھیں اٹھائی جاتی کہ کل مرنا بھی ہے اور جنازہ مفتی یا مولوی صاحب نے ہی پڑھانا ہے۔ اولیا اللہ سے عقیدت کبھی ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ پریشانی کے دوہی حل ماں کی گود یا کسی بزرگ کا مزار۔کیونکہ تدارک ہو یانہ ہو ایک ذہنی سکون مل جاتا ہے۔ اب اللہ کے پاس نیک وسیلے سے دعا گئی ہے، شرف قبولیت پائے گی۔ تو کیا وہ وسیلہ کوئی ایسا سفید پوش نہیں ہو سکتا جس کی پریشانی آپ چپکے سے دور کر دو۔ اس کا پورا خاندان آپکو دعائیں دے گا ۔ بزرگ بھی خوش اور اللہ بھی۔
دوسرا حل گورنمنٹ سے التجا کہ ہمارے کورسسز میں بنیادی اسلامی تعلیم جیسے چھ کلمے ،نماز ، نماز جنازہ وغیرہ لازمی قرار دیں تاکہ ہم میں سے کچھ غریب ان سے جل جل کر خاک ہونے سے بچ جائیں کیونکہ بہرصورت قبر میں نماز جنازہ کے بعدہی اتارا جاتاہے۔ مردوں کو مسلمان جلایا نہیں کرتے ۔مفتی صاحبان خدارا دین کو تجارت نہ بنائیں ایک مسلے کا حل امیر غریب سب کو ایک سا ہی بتائیں ۔کسی نے مفتی صاحب سے قتل کا قصاص پوچھا تو انہوں نے فرمایا ؛رہٹ جس سے ہل چلایا جاتا ہے کمرے میں کھڑا کر کے اس کے برابر اناج۔ کہا آپکا بیٹا بھی شریک جرم تھا۔ آدھا آپ دیجئے تو فرمانے لگے محترم ہل کو لٹا لیجئے اس کے برابر اناج کا قصاص ہی درکارہے بس۔ آج اگر ہم گمراہ ہیں تو اپنی لاعلمی کی وجہ سے۔ہمارے اساتذہ کو باقاعدہ اسلامی تربیت فراہم کی جائے کیونکہ نہ توہمیں کسی شدت پسند سے پڑھنا ہے نہ ہی کسی ناقص العلم سے۔ ہمیں دل ودماغ کی روشنی کی ضرورت ہے۔ محض ڈگری کی نہیں۔ کئی بار پڑھا اور سوچا بھی کہ مسٹر چرچل کے اظہار محبت کے طویل باب سے ہمارا کیا لینا دینا۔ اس کی جگہ حیات طیبہ بھی تو پڑھائی جا سکتی ہے ۔ پورے پاکستان سے مفتی صاحبان کے بارے معلومات اکٹھی کریں ۔ میں یہ نہیں کہتی کہ تمام بلک زیادہ تر بدنام ہیں۔ تفصیل سے آپ سب ھی آگاہ ہیں۔ ابھی مفتی عبدالقوی کا قصہ تازہ ہے۔ قصہ پارینہ تو بہت سے معاملات کو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جیسے مولوی صاحب کا بارہ سالہ بچی سے عقد ، مدرسوں میں معصوم بچوں سے زیادتی و تشدد کے واقعات ۔ مفتی حضرات سے میرا محض یہی شکوہ ہے کہ اگر ہم آپ سے کچھ پوچھنے کی جسارت کر بیٹھیں توہماری درست رہنمائی فرمایا کریں ، بھٹکے ہوئے مسافروں کو غلط راستہ بتا کر آپکو کیا ملے گا؟ ہماری سوچ ، ذہن اور جذبات سے کھیلنا بند کریں ۔ اسلام جیسا ہے ویسا سکھائیں ۔ اسلام کو اپنی دکان چمکانے کے لیے مسخ نہ کریں .. واللہ اعلم باالصواب۔

جنتِ ارضی کشمیر میں چار روز۔۔۔۔ آخری قسط۔

تحریر:۔ ڈاکٹر اکرام الحق اعوان



آزاد کشمیر کی چار روزہ سیر میں ہمیں کئی نئے تجربات بھی ہوئے۔ کئی خوبصورت جگہیں دیکھنے سے رہ بھی گئیں۔ کئی ایسی چیزیں دیکھیں جنہیں حکومتی سطح پر بہت بہتر کیا جا سکتا ہے۔ میں اب آخر میں یہ تمام مشاہدات درج کرنا چاہوں گا تا کہ نہ صرف یہ کہ وہاں جانے والے سیاح پریشانیوں سے بچ سکیں بلکہ انہیں وہاں جانے سے پہلے کچھ معلومات بھی حاصل ہو سکیں۔
1 ۔کشمیر انتہائی خوبصورت علاقہ ہے۔وہاں ہر طرف قدرتی خوبصورتی پھیلی ہوئی ہے۔ جب آپ وادی نیلم جاتے ہیں تو دریائے نیلم ہر وقت ہر جگہ آپ کے ساتھ ساتھ ہو تا ہے۔دریائے نیلم کا یہ ساتھ واپسی میں بھی اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک آپ کوہالہ پل کراس کر کے پاکستان میں داخل نہیں ہو جاتے۔ اس دریا کی وجہ سے آپکو جگہ جگہ آبشاریں نظر آئیں گی۔ خوبصورت پہاڑ ، دل کو موہ لینے والی وادیاں اور بل کھاتی سڑکیں آپکے دل کو ہر وقت دبوچے رکھتی ہیں۔اور آپ کا جی چاہتا ہے کہ آپ کچھ عرصے کے لئے یہیں رک جائیں اور ان نظاروں کو اپنی آنکھوں میں اچھی طرح سمو لیں۔ اس لئے آپ نے اگر وادی کشمیر کے وزٹ کا پروگرم بنایا ہے تو یہ پروگرام کم از کم ایک ہفتے کا ہونا چاہئے۔ آپکو کشمیر میں اپنے قیام کے ایک ایک لمحے کوانجوائے کرنا چاہئے۔آپ ہر خوبصورت جگہ پر لازمی رکیں اور قدرت کی خوبصورتی سے اپنے جی کو شانت کریں۔
2۔ کشمیری لوگ بے حد مہمان نواز ہوتے ہیں۔ وہاں آپ اپنے قیام کے ایک ایک لمحے کو انجوائے کریں گے۔ کشمیریوں کا رویہ آپ سے بہت اچھا ہوگا۔ وہ آپکی مشکل میں بھرپور مدد کریں گے۔ اس لئے اگر آپکو کہیں گاڑی کو دھکا لگوانا ہویا کوئی بھی پرابلم ہو وہ آپکو مایوس نہیں کریں گے۔
3۔ کشمیر جانے سے پہلے مظفر آباد میں Scom کی سم حاصل کرنا نہ بھولیں۔ وادی نیلم میں یو فون یا کسی بھی کمپنی کی سروس کام نہیں کرتی ۔ وہاں صرف Scom کے سگنل موجود ہوتے ہیں۔
4۔ سیزن کے دنوں میں بہتر ہو گا کہ آپ کشمیر آنے سے پہلے انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی ہوٹل کی بکنگ پہلے کروا لیں۔ اس طرح بکنگ تھوڑی سی مہنگی تو ضرور ہو گی کیوں کہ آپکے پاس بارگینگ کا آپشن نہیں ہوگا لیکن بعد میں مشکلات سے بچنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ ہاں البتہ اگر آپ کا بجٹ کم ہے تو اس صورت میں یہی بہتر ہوگا کہ آپ مطلوبہ جگہ پہنچ کر گھوم گھام کر سستے اور مناسب ہوٹل میں بکنگ کروائیں۔
5۔ کشمیر میں سیزن کے دنوں میں سردی نہیں ہوتی ۔ اسلئے گرم کپڑوں سے اپنا بیگ بھاری کرنا کوئی مناسب اقدام نہ ہوگا۔ مئی تا اگست کے مہینوں میں آپ عام کپڑوں سے کام چلا سکتے ہیں۔
6۔ کشمیر آنے سے پہلے اپنے ساتھ جوگر کا ایک جوڑا بھی ضرور رکھ لیں۔ کشمیر میں کئی جگہوں پر آپکو پتھروں پر چلنا پڑ سکتا ہے۔ وہاں پر یہ جوگر بے حد کام آسکتے ہیں۔
7۔ اگر آپکا کشمیر کا ٹور سات دنوں کا ہے تو بہتر ہوگا کہ پہلا سٹاپ آپ ’’کُٹن ‘‘ میں کریں۔ کٹن ’’نالہ جارگن‘‘ کے ساتھ ساتھ کنڈل شاہی سے 8کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک خوبصورت مقام ہے۔جہاں بہترین ریسٹ ہاؤسز بھی موجود ہیں۔ یہ علاقہ تسلی سے دیکھنے والا ہے۔ اسلئے یہاں ایک رات کا قیام ضروری ہے۔کٹن کے بعد اگلا قیام ’’کیرن‘‘ میں کیا جائے۔ کیرن میں دریا کنارے بہت خوبصورت سپاٹ ہیں۔ کیرن سے اپر نیلم کو بھی راستہ جاتا ہے جہاں سے آپ پوری وادی کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ آپ اگر چاہیں تو اپر نیلم میں بھی رات رک سکتے ہیں۔ اپر نیلم میں بھی کئی اچھے اچھے گیسٹ ہاؤسز موجود ہیں۔ تیسری رات قیام ’’شاردہ‘‘ میں رکھیں تو بہتر ہوگا۔شاردہ میں’’ بیسیوں گیسٹ ہاؤسز‘‘ موجود ہیں۔جن میں سے کئی گیسٹ ہاؤسز معیاری ہیں۔ زیادہ بہتر ہوگا اگر دریا کنارے واقع گیسٹ ہاؤس میں جگہ لینے کی کوشش کی جائے۔اگر شاردہ یونیورسٹی والی سائیڈ پر واقعہ ہوٹلوں میں جگہ لی جائے تو زیادہ اچھا رہے گا کیوں کہ خوبصورتی اور ماحول کے لحاظ سے یہ جگہ زیادہ مناسب ہے۔چوتھی رات ’’اڑنگ کیل‘‘ میں قیام زیادہ مناسب رہے گا۔ اڑنگ کیل جانے کے لئے ہائیکنگ کے علاوہ لفٹ کا راستہ بھی موجود ہے۔ ہائیکنگ کا راستہ دو ڈھائی گھنٹے کا ہے جبکہ لفٹ کے ذریعے جانے میں تقریباً تیس منٹ پیدل چلنا پڑتا ہے۔اگر فیملی ساتھ ہو تو لفٹ والا راستہ زیادہ مناسب رہے گا۔اڑنگ کیل کی راتیں انتہائی خوبصورت ہوتی ہیں۔یہاں اگر ریسٹ ہاؤسز میں جگہ نہ ہو تو کیمپنگ بھی کی جا سکتی ہے۔ اڑنگ کیل سے واپسی پر پانچویں دن ٹباؤٹ کا چکر لگایا جا سکتا ہے۔جبکہ پانچویں رات کیل میں قیام کیا جانا چاہئے۔چھٹی رات مظفر آباد گزاری جائے تا کہ اگلے روز علی الصبح واپسی کا سفر شروع کیا جا سکے۔
9۔نیلم وادی حالانکہ سیاحت کا گڑھ ہے۔ لیکن یہاں پر سیاحوں کے لئے کوئی خاص سہولیات موجود نہ ہیں۔ یہاں سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں۔ یہاں دریا کنارے کئی خوبصورت سپاٹ موجود ہیں۔ جن میں کیرن اور شاردہ کے سپاٹ قابلِ ذکر ہیں۔ ان سپاٹس کو ڈیولپ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پر وافر پانی کی موجودگی سے کام لیتے ہوئے ’’سوزو واٹر پارک ‘‘کی طرح کئی تفریحی سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔بچوں کے لئے سلائیڈز اور تالاب بنائے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی سرگرمیاں شروع ہو سکتی ہیں۔یہاں کئی جگہوں پر ایسے سپاٹ بنائے جا سکتے ہیں جہاں لوگ بیٹھ کر پانی میں پاؤں ڈالکر ٹھنڈے پانی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
10 ۔ وادی نیلم میں کھانے پینے کی اشیاء کافی مہنگی ہیں۔ اس لئے اگر آپ اپنا بجٹ کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔تو بہتر ہو گا کہ کھانے پینے کا سامان اپنے ساتھ لیکر جائیں اور کھانے پینے کا انتظام خود کریں۔ یہاں اکثر ہوٹلوں میں کچن کی سہولت موجود ہوتی ہے۔اور وہ سیاحوں کو اس سہولت سے استفادہ کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔
11۔وادی نیلم میں سیاحوں کے لئے کوئی جگہ خطرناک نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتلایا کہ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔انہیں سیاحوں کی اہمیت کا علم ہے۔وہ سیاحوں کی دل سے عزت کرتے ہیں اور سیاحوں کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ یہاں چوریاں چکاریاں یا ڈاکے بہت کم ہیں۔
12۔مجھے وادی نیلم میں انتظامیہ اتنی متحرک نظر نہیں آئی۔ مظفر آباد سے کیل جانے والی سڑک پر بیسیوں ایسے مقامات ہیں جہاں سڑک بہت تنگ ہے۔ اور صرف ایک سائیڈ کی ٹریفک چل سکتی ہے لیکن اس کے باوجود انتظامیہ نے یہاں ٹریفک رواں دواں رکھنے کے لئے کوئی بندوبست نہیں کیا ہوا۔ یہاں پر ہمہ وقت ٹریفک پولیس کی ڈیوٹی ہونی چاہئے تا کہ سیاحوں کو تکلیف نہ ہو۔ میں نے شاردہ میں بھی دو دن تک ٹریفک پولیس کی شکل تک نہیں دیکھی۔ مجھے تیسرے دن شاردہ بازار میں ٹریفک پولیس کے دو آفیسر نظر آئے جنہون نے نو پارکنگ کے بورڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے شہر کی مخصوص جگہوں پر یہ بورڈ کھڑے کئے اور اپنا فرض پورا کر کے وہاں سے چلے گئے۔
13۔شاردہ یونیورسٹی کا وزٹ کر کے بے حد مایوسی ہوئی ۔ شاردہ یونیورسٹی کسی بھی اینگل سے یونیورسٹی دکھائی نہیں دیتی۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ ایک ٹیمپل تھا۔ جسے یونیورسٹی کا نام دے دیا گیا۔ اس سلسلے میں حکومت کو مزید تحقیق کرنی چاہئے تا کہ تاریخ کا صحیح چہرہ لوگوں کے سامنے آسکے۔
14۔مظفرّ آباد سے کیل تک آرمی کی انتی چیک پوسٹس ہیں کہ بندہ اپنی انٹری کرواتے کرواتے نڈھال ہو جاتا ہے۔ بظاہر اس انٹری کا کوئی فائدہ بھی نظر نہیں آتا ۔ آرمی افسران کو اس جانب توجہ دینی چاہئے اور اس جائز مسئلے کوئی آسان حل نکالنا چاہئے۔
15۔سیاحوں کو چاہئے کہ وہ مظفر آباد سے شاردہ جاتے ہوئے ڈٖسپلن کا خاص خیال رکھیں ۔ اپنی لائن میں رہیں اور اگلی گاڑی کو کراس اسی صورت میں کریں اگر روڈ بلاک نہ ہو۔ اگر روڈ بلاک ہو تو کسی بھی صورت میں اپی لائن نہ چھوڑیں۔
16۔ٹریفک جام ہونے کی صورت میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔ پرسکون انداز میں رک کر انتظار کریں۔ کچھ دیر کے بعد یہ ٹریفک جام ختم ہو جائے گا۔ اگر آپ نے جلد بازی کی تو ٹریفک جام کا دورانیہ بڑھ بھی سکتا ہے۔
17۔شاردہ سے کیل اور کیل سے ٹباؤٹ جانے والے راستے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وادی نیلم آنے والے ہر سیاح کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نیلم کے آخری خوبصورت پوائنٹ ٹباؤٹ تک لازمی جائے لیکن عموماً انکی خواہش پوری نہیں ہو پاتی ۔ کیوں کہ کیل سے ٹباؤٹ تک کا راستہ کچھ اس طرح کا ہے کہ وہاں تک جیپ کے علاوہ کسی دوسری سواری پر جایا ہی نہیں جا سکتا ۔ اور ٹباؤٹ تک جانے کے لئے جیپ کے سفر میں بھی کم از کم تین گھنٹے لگتے ہیں۔اگر اس راستے پر سڑک بنا دی جائے تو نہ صرف اس خوبصورت مقام پر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا بلکہ مقامی لوگوں اور حکومتِ آزاد کشمیر کے ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا۔
18۔ حکومتِ پنجا ب کی طرح ، حکومتِ آزاد کشمیر کو بھی فوری طور پر اڑنگ کیل میں چلنے والی لفٹ کا ٹیکنیکل معائنہ کروانا چاہئے اور معائنہ ہونے تک یہ لفٹ بند کروا دینی چاہئے۔ کسی قیمتی جان کے ضائع ہونے سے بہتر ہے کہ حفاظتی انتظامات کو بہتر کر لیا جائے۔
19۔شاردہ و دیگر علاقوں میں بنے ہوئے لکڑی کے پلوں کو لوہے کے پلوں میں بدلنے کی بات کی جارہی ہے۔ یہ پل بظاہر خطرناک تو لگتے ہیں۔ لیکن ایسا ہے نہیں ۔ ان پلوں کے ٹوٹنے کا آج تک کوئی واقعہ سننے کو نہیں ملا۔یہ پل بھی سیاحوں کی دلچسپی کا ایک ذریعہ ہیں۔ کئی سیاح ان پلوں پر کھڑے ہو کر تصویریں بنواتے ہیں۔پل پار کرتے وقت پل کی تھرتھراہٹ اور کپکپاہٹ سنسنی پھیلاتی ہے اور یہ سنسنی بعد میں اس یادگار سفر کا حصہ بن کر آپکو ساری عمر یاد رہتی ہے۔اس لئے ان پلوں کو موجودہ حالت میں برقرار رکھا جانا ضروری ہے
20۔وادی نیلم میں مین شاہراہ پر جس جگہ بھی چشمے سڑک کے اوپر سے گزر رہے ہیں وہاں سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور وہاں سے گاڑیوں کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ان تمام جگہوں پر چھوٹے چھوٹے پل بنا دینے چاہیئیں۔تا کہ ٹریفک کا بہاؤ بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
21۔ نیلم ویلی تقریباً 200کلومیٹر کے ایریے پر پھیلی ہوئی وادی ہے۔ اسکا چپہ چپہ خوبصورت ہے۔ لیکن یہاں موجود کئی پکنک سپاٹ ایسے ہیں جو سڑک سے ہٹ کر ہیں اور نیلم ویلی پہلی بار جانے والے سیاحوں کو ان خوبصورت جگہوں کے بارے کوئی معلومات نہیں ہوتیں۔اسی وجہ سے سیاح چاہنے کے باوجود یہ سپاٹ نہیں دیکھ پاتے۔ اس بار ہمارا مکمل ارادہ تھا کہ ہم ’’کٹن‘‘ اور دھنی آبشار کا بھی وزٹ کریں گی۔ لیکن ہمیں اندازہ ہی نہ ہو سکا کہ یہ دونوں خوبصورت سپاٹس کس جگہ واقع ہیں اور کب یہ سپاٹس ہماری نظروں کے سامنے گزر گئے۔ یوں ہم یہ سپاٹس دیکھنے سے محروم رہ گئے۔ اس لئے حکومتِ آزاد کشمیر سے درخواست ہے کہ کشمیر کے ہر قصبے میں نمایاں جگہوں پر ایسے بڑے بڑے بورڈز لگائے جائیں جن پر اس علاقے میں قریب قریب واقع تمام خوبصورت سپاٹس کی تفصیلات موجود ہوں ۔ نیز یہاں کے تمام ہوٹلز کے نام اور انکا محلِ وقوع بھی درج کیا جائے تا کہ سیاحوں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
22۔وادی نیلم میں ٹریفک پولیس کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ہمیں کسی بھی جگہ ٹریفک بلاک والی جگہ پر پولیس کا سپاہی نظر نہ آیا۔ ہاں البتہ عید کے چوتھے روز شاردہ سے واپسی پر دو تین جگہوں پر ٹریفک پولیس موجود تھی اور تندہی سے ٹریفک کو کنٹرول کر رہی تھی۔ کئی جگہوں پر آرمی کے جوان بھی ٹریفک کو کنٹرول کر رہے تھے۔ میری کشمیر انتظامیہ سے درخواست ہے کہ ٹریفک پولیس کو مزید فعال کیا جائے اور انکی مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بنا یا جائے۔
23۔ شاردہ میں واقع لکڑی کا پل بھی کافی حساس جگہ واقع تھا۔ اس پل پر سے ایک وقت میں صرف ایک گاڑی کو گزرنے کی اجاز ت تھی۔ وہاں پرکبھی کبھی ہم نے پولیس کے دو جوانوں کو ڈیوٹی کرتے دیکھا جو ایک سے زیادہ گاڑیوں کو بیک وقت پل پر جانے سے منع کر رہے تھے لیکن زیادہ تر وقت پولیس کے یہ جوان ڈیوٹی پر موجود نہ پائے گئے اور میں نے اس پل پر سے بیک وقت چار چار گاڑیوں کو گزرتے دیکھا جو کہ کافی خطرنا ک بھی ثابت ہو سکتا تھا۔پل پر لکڑیوں میں لگی کیلیں باہر نکلی ہوئی تھیں جنکے باعث دو بار ہماری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوا۔ اس مقصد کے لئے بھی پل پر ایک اہلکار کی ڈیوٹی ہوتی ہے جس کا کام ہمہ وقت پل پر موجود لکڑی کے تختوں کو سیدھا کرنا اور ان میں سے باہر نکلی ہوئی کیلوں کو ٹھیک کرنا تھا لیکن یہ اہلکار بھی زیادہ تر وقت قریب موجود ہوٹل میں جمائیاں لیتے پائے گئے۔
24:۔ اور آخری بات کہ زندگی بے حد خوبصورت ہے۔ زندگی میں کچھ وقت سیر وتفریح کو بھی دیں۔ سال میں کم ازکم ایک بار پاکستان کے خوبصورت علاقوں کی سیر کے لئے ضرور گھر سے باہر نکلیں تاکہ آپکے بچوں کو بھی علم ہو سکے کہ ہمارا وطن جنت کا ٹکڑا ہے۔ اور دنیا میں اس جتنا خوبصورت کوئی ملک نہیں۔ (خدا حافظ)

India’s pressed neck policy



Every year during flood season, debates are broadcasted by various channels about Kalabagh dam, politicians emerge quarreling for imposing upon other one’s cliché but yet to the prevailing life, no one has been visualized imprinting decorum solution for it, acceptable to everyone. Why do politicians not divert their guns towards India or can such roles not be performed by them in case of India or prolonged performance can’t be ushered by them? To Indus water treaty, India is bound to maintain water level of 55000 cubic square feet through western rivers ( Indus, Jhelum, Chenab not Neelum) annually and 22000 cubic square feet has been received by us since 2004. India claims that such shortfall is there, due to less rainfall while counter argument of Pakistan is emphasizing truth; it says that 67% of water comes from melting of glacier.

Furthermore, moving with treaty India is bound to send 6-month prior notice to Pakistan before initiation of new project (Dam Upstream), while Pakistan has to reply within 3-months. In case of disagreement, both states can hold case to international court of arbitration. India has constructed 72 projects like Dulhasti, Salal, Bagehar and Kisangangaetc and numbers are in pipeline; which India can construct, but with prescribed height. Actually, Indians have violated the terms of concordat as more height (33 feet)  hasbeen given to dam like Kisanganga with claim that mostly dams have been constructed  on Neelum, which has not been mentioned in western rivers. In return, Pakistan says that Neelum is no doubt not part of western rivers, but Jhelum has main flow of water from Neelum. Since 2004, India has not sent single letter to Pakistan about permission, and Pakistan sent 300 objection letters since 1971 to India, none of them has been replied.

Including the issue of Kishanganga Dam by Pakistan, both Islamabad and New Delhi took issue over bagleaur dam in 2009 to ICA ( International court of Arbitration) and ICA appointed observer team for conflict. What acute team has found regarding conflicted dam? Structure of dam is complete and can’t be reversed with 33 feet more height than prescribed. Indian lobby prevailed over Pakistan in ICA to be provided with fresh data to court. Further, Indians say that Pakistan should not waste water to sea( 32%) while it should waste(17%) to sea. In reply, Islamabad stayed to its claim of water receiving. KawajaAsif( Minister for water and power) addressed to parliament; if flow is reduced with same pace then drought will be there in Pakistan in 2024. While director agriculture Punjab said that Pakistan had been facing 1 billion rupees loss per crop due to reduced flow.

Such cunning steps are being taken by India in violation of treaty, as New Delhi maintains flow according to its will  and on the contrary, Pakistan faces huge loss through flood or water shortage. India will continue to build dams until proper orchestration of Pakistan about constructing new dams because low stream always has more rights over water than upstream according to laws. So, to overcome reduced water flow and losses through flood, all wings of Pakistan have to gather at juncture, which demands for one will. In short, India will have to increase flow, if Basha, Dashu and Kalabagh dams are constructed. Such mastery will also escalate the water life line of country from 28 days and Kawaja Asif will need no ground to pray for rain. But, these strides are exhorting to get rid of egoism, so that country could get better.

Recently, burning issue of Kashmir and Uri attack have fingered Pakistan and India towards harsh talks and pre-war preparations. Mr. Modi uttered ferocious words about ending of Indus water treaty during a gathering, but can it be done? International court of Arbitration is holder of treaty between both cliques and it can’t be ended on the will of one faction, but such claim of Mr. Modi has starched the words of  Mr. Obama’s 1st speech in 2008; Pakistan and India’s next war will happen due to water conflict.  So far as Indian surgical strikes are concerned; those have badly failed because Indian media and former high influential have declared them, baseless and without influence.

Water is the basic need of  human body and such treaties are based on international codes of conduct, which can’t be easily violated. Just like Pak-India, Hungary and Slovakia were concerned about Gabcikovo-Nagymarosproject and filed a case in ICJ. On September,1997 ICJ passed a ruling in the case to put such consonance beyond the disputes. Treaty can’t be ended and violated, but can be terminated by another treaty, which Pak-India are not articulating. If Article 63 of Vienna convention on law of treaty is introspected, it says that severance of diplomatic relations has no concern with violation of treaty except diplomatic relations are being shaped severe about treaty. So, through such angle, Pak-India are having burning question of Kashmir and Uri attack, which are being followed through tactics of Violation of Indus water treaty.

To conclude: Pakistan remained sluggish in relation of pursuing India regarding the violation of treaty, whether it is reduced water flow or ending of concordat except strongly pursued case of Salal Dam 1977. So, strong diplomacy is needed on every forum with jointure of all wings over construction of dams. In short, such treaty should not be used as ammunition of war or for political needs, because it has long entrenched history, which can’t be ended.