میاں بیوی کا رشتہ

طیبہ ضیاء … مکتوب امریکہ

کہا جاتا ہے عورت مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔ قرآن پاک میں ایسا کوئی ذکر نہیں آیا۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو مٹی سے تخلیق فرمایا ، پھر جوڑے بنائے اور جوڑوں سے انسان کی پیدائش کی۔ عورت کا مرد کی پسلی سے پیدائش سے متعلق علما و محدثین کے نزدیک یہ ایک حدیث ہے مگر حدیث متفق الیہ نہیں یعنی اس روایت میں علما میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔اگر مان لیا جائے کہ عورت مرد کی پسلی یعنی پہلو سے پیدا ہوئی ہے تو پھر عورت کو پہلو سے کیوں لگا کر نہیں رکھتا ؟ پھر جوڑوں میں نفرتیں جھگڑے طلاقیں کیوں ہو جاتی ہیں ؟بچہ عورت کی کوکھ سے جنم لیتا ہے تو ماں بچے کے لیے جان تک وار دیتی ہے مگر مرد پہلو سے جنم لینے والی عورت سے وہ محبت اور عشق کیوں نہیں کر پاتا ؟در حقیقت مرد عورت آدم حوا دو الگ الگ انسان تھے اور جوڑے کی صورت میں زمین پر اتارے گئے۔


میاں بیوی دو الگ الگ فطرت مزاج اور سوچ کے لوگ ہوتے ہیں فقط عزت احترام محبت ہمدردی انھیں اکٹھا رکھ سکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی غیر موجودگی میں ان کی اہلیہ سے پہلی بار ملے اور اس کی ناشکری اور بد اخلاقی کے کلمات سنے تو انھوں نے اپنی بہو کو ایک’اجنبی بزرگ‘ کے طور پر مشورہ دیا کہ تمہارا خاوند آئے تو اسے کہنا کہ چوکھٹ بدل لے! وہ تو اپنی کم فہمی میں سمجھی بھی نہیں، شوہر کے آنے پر بتایا تو انھوں نے اسے طلاق دے دی اور دوسری شادی کی۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پھرتشریف لائے تو ان کے بیٹے گھر پر نہیں تھے، اب کے نئی بہو سے سلام دعا ہوئی تو شکرگزاری کے کلمات سنے، اس پر جاتے ہوے دعا دی اور کہا کہ اپنے شوہر سے کہناکہ اس چوکھٹ کو سلامت رکھے۔ بیوی نے ایسے ہی کلمات شوہر سے عرض کردیے۔ انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور الحمدللہ کہا، اپنے بابا جان کی دعا کی برکت سے بہت نعمتیں پائیں۔


درحقیقت عورت کا احساسِ شکرگزاری اورمرد کا ظرف کسی بھی گھر کو جنت یا دوزخ بنا سکتا ہے۔ حضرت لقمان علیہ السلام نے جو حکیم تو سب کے نزدیک ہیں اور بعض کے نزدیک پیغمبر بھی ہیں ایک باغ میں نوکری کرلی،باغ کا مالک ایک روز باغ میں آیا اور ان سے ککڑیاں منگائیں اور اس کو تراش کر ایک ٹکڑا ان کو دیا یہ بے تکلف بکر بکر کھاتے رہے اس نے یہ دیکھ کر کہ یہ بڑے مزے سے کھارہے ہیں، یہ سمجھا کہ یہ ککڑی نہایت لذیذ ہے۔ ایک قاش اپنے منہ میں بھی رکھ لی تو وہ کڑوی زہر تھی، فوراً تھوک دی اور بہت منہ بنایا۔ پھر کہا، اے لقمان تم تو اس ککڑی کو بہت مزے سے کھا رہے ہو، یہ تو کڑوی زہر ہے۔ کہا، جی ہاں، کڑوی تو ہے کہا پھر تم نے کیوں نہیں کہا کہ یہ کڑوی ہے؟ کہا، میں کیا کہتا مجھے یہ خیال ہوا کہ جس ہاتھ سے ہزاروں دفعہ مٹھائی کھائی ہے ،اگر اس ہاتھ سے ساری عمر میں ایک دفعہ کڑوی چیز ملی تو اس کو کیا منہ پر لاؤں! یہ ایسا اصول ہے کہ اگر اس کو میاں بیوی دونوں یاد رکھیں تو کبھی لڑائی جھگڑا نہ ہو اور کوئی بدمزگی پیش نہ آوے۔ بیوی یاد کرے کہ میاں نے ہزاروں طرح کے ناز میرے اٹھائے ہیں ایک دفعہ سختی کی تو کچھ بات نہیں۔ اور خاوند خیال کرے کہ بیوی ہزاروں قسم کی خدمتیں میری کرتی ہے ایک دفعہ خلاف طبع بھی سہی۔

اگر کوئی شخص ازدواجی زندگی کو یہ سمجھتا ہے کہ یہ رومانوی اور پھولوں بھرے خوابوں سے معمور ہوتی ہے اور بس ! تو وہ نا قابل وجود چیز کو اس دنیاوی زندگی میں تلاش کر رہا ہے جبکہ اس دنیاوی زندگی کی طبیعت اور مزاج میں مشکلات، مشقتیں اور تکلیفیں ودیعت کی جا چکی ہیں،میاں بیوی میں محبت واجب نہیں اور نہ ہی نکاح نامہ میں محبت کی شق اور شرط موجود ہے مگر اک دوجے کی عزت احترام خیال اطاعت سمجھوتا حیا اس تعلق کو مضبوط رکھ سکتا ہے۔خاوند اور بیوی کے ما بین محبت ایک فطری اور طبعی معاملہ ہے تو ایسے معاملات میں یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ شریعت میں واجب ہے یا شریعت نے اس چیز کا حکم دیا ہے بلکہ اس کی فطری اور طبعی کیفیت  پر ہی اکتفا کر لیا جاتا ہے۔


سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو فرمایا جو اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا: تم اسے کیوں طلاق دینا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: مجھے اس سے محبت نہیں ہے! عمرؓ نے اس سے کہا، تو کیا ہر گھر کی بنیاد محبت پر ہی ہوتی ہے؟ باہمی شفقت اور حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے!

..........................

کوئی تبصرے نہیں

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©2024 ڈھڈیال نیوز
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.