جاپانی سیاست میں پاکستان کیلئے سبق


محمد عرفان صدیقی

پچھلے ایک ہفتے کے دوران جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا ،جو جاپان کی حکمراں جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ بھی ہیں ،نے سیاسی فنڈ ریزنگ میں کرپشن کے الزامات پر اپنی ہی جماعت اور کابینہ کے چار طاقت ور وزیروں کو عہدوں سے برطرف کردیا ، جس سے جاپان کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ۔ تاہم حکومت میں اتنی اہم برطرفیوں سے نہ ہی حکومت کمزور ہوئی اور نہ ہی جاپان کی معیشت کو دھچکا لگا ، بلکہ وزیر اعظم فومیو کشیدا نے ان چاروں عہدوں پر نئے وزیروں کی تعیناتیاں بھی کردی ہیں اور نئے وزراء نےاپنی ذمہ داریاں سنبھال کر کام بھی شروع کردیا ہے ، جاپانی وزیر اعظم نے جن اہم ترین عہدوں سے اپنے وزیر وں کو برطرف کیا ہے ان میں پارٹی کے پالیسی چیف کوئچی ہاگئیودا شامل ہیں جن پر پارٹی فنڈنگ میں کرپشن کا الزام تھا ،جس پر انھوں نے خود وزیر اعظم کو استعفیٰ پیش کیا جسے وزیرا عظم نے قبول کرلیا ،جبکہ ساتھ ہی وزیر اعظم نے پارلیمانی امور کے وزیر تسویوشی تاکاگی کو بھی عہدے سے برطر ف کردیا جن پر الزام تھا کہ انھوں نے کئی سو ملین کی رقم پارٹی فنڈنگ کے نام پر جمع کرکے ظاہر نہیں کی تھی ،اس سے قبل جاپانی وزیر اعظم نے چودہ دسمبر کو بھی چار وفاقی وزیروں کو مختلف الزامات کے تحت برطرف کردیا تھا ، حقیقت یہی ہے کہ جاپان کی جمہوری سیاست میں وزراء کی برطرفی عام سی بات ہے اور یہ برطرفیاں چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بھی کردی جاتی ہیں جس میں ماضی میں بعض اہم وزراء کو صرف اس وجہ سے بھی برطرف کردیا گیا تھا کہ انھوں نے ایک ایسی کاروباری تنظیم کے عشائیے میں شرکت کی تھی جووزیر موصوف کی وزارت سے ٹھیکے لیا کرتی تھی ، لہٰذا وزیر موصوف پر مفادات کے تحفظ کا الزام لگا کربرطرف کردیا گیا تھا ، اسی طرح جاپان میں وزرائے اعظم بھی تبدیل ہوجاتے ہیں ،اسمبلیوں میں لڑائی جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں لیکن کبھی ان سب معاملات کا جاپان کی معیشت پر اثر نہیں پڑا ، کبھی ان سیاسی معاملات کی وجہ سے جاپان کی اسٹاک ایکسچینج متاثر نہیں ہوئی اور نہ ہی آنے والی حکومت جانے والی حکومت کی پالیسیوں کو تبدیل کرتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ جاپان میں طویل مدتی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں ،جن کا سبب جاپانی سرمایہ کاروں کو معلوم ہوتا ہے، حکومتوں کے آنے اور جانے سے ان کے کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لہٰذا جاپان کی معیشت میں تسلسل برقرار رہتا ہے ،اسی حوالے سے جاپان کے سیاسی اور معاشی معاملات کے ایک ماہر جو پچھلے چالیس سال سے جاپانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں اور ان کی ان ہی کوششوں کے سبب انھیں جاپانی حکومت نے جاپانی شہنشاہ کی جانب سے سب سے بڑا سول ایوارڈ عطا کیا ہے جبکہ حکومت پاکستان نے بھی انہیںتمغہ امتیاز سے نوازا ہے کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ چالیس سال کے دوران جاپان میں درجنوں حکومتوں کو آتے ،جاتے دیکھا ہے لیکن آج تک کبھی جاپانی سیاست کو جاپانی معیشت پر اثر انداز ہوتے نہیں دیکھا جبکہ دوسری جانب جاپان کی کسی بھی حکومت نے جاپانی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کی ،جس کے باعث حکومتوں کے بننے اور ختم ہونے سے جاپان کی معاشی اور تجارتی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ادارے بہترین طریقے سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں ، جب کہ اس کے برعکس پاکستان میں حکومت تو دور کی بات ہے اگر کوئی اہم وزیر بھی تبدیل ہوجائے تو اسٹاک ایکسچینج میں ہلچل مچ جاتی ہے ملک کو اربوں کا نقصان ہوجاتا ہے ،ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اگر ریل کا ایکسیڈنٹ ہوجائے تو ریلوے کا وزیر مستعفی ہوجاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں نہ وزیر مستعفی ہوتا ہے اور نہ ہی وزیر اعظم کے اندر اتنی ہمت ہوتی ہے کہ وہ وزیر کو فارغ کرسکے کیونکہ وزیر اعظم کو خطرہ ہوتا ہے کہ اگر وزیر کوفارغ کردیا تو وزیر اعظم کی حکومت ہی نہ ختم ہوجائے ،ان کے مطابق جاپان کی پولیس اتنی بااختیار ہے کہ کرپشن کے الزامات پر بڑے سے بڑا وزیر گرفتار ہوجائے ، جبکہ جھوٹا الزام لگانے والا خواہ کتنا ہی بااثر شخص کیوں نہ ہو اسے جھوٹا الزام لگانے کے جرم میں سزا سے بھی کوئی نہیں بچا سکتا ، لہٰذا پاکستان کو جاپان کی سیاست سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے جس کے مطابق پاکستان میں اداروں کو مضبوط بنایا جائے ، سیاست اور معیشت کو علیحدہ رکھا جائے ، جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے ریاست کے ہر ادارے کو مل کرکام کرنا چاہیے اور سب سے اہم بات یہ کہ ریاست کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے جس کی ماضی میں بہت سی مثالیںموجود ہیں ، پاکستان کو جاپان سے سیاست اور معیشت میں فرق ، طویل مدتی معاشی پالیسیاں اور مضبوط اداروں کے قیام جیسی کئی اہم چیزیں سیکھنے کی ضرور ت ہے بصورت دیگر ہم ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔

..........................

کوئی تبصرے نہیں

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©2024 ڈھڈیال نیوز
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.