کھیتوں میں غیر آباد کنویں خاموش موت کے گڑھے
چکوال کی بات
کالم (2)
✒️از قلم – بابا بشیر
18 مئی 2025
03008496280
آج میں "چکوال کی بات" کے مستقل سلسلے میں ایک ایسا موضوع اٹھا رہا ہوں جس کو اکثر نظر انداز کر دیا گیاہے، لیکن یہ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے—اور وہ ہے: کھیتوں میں موجود پرانے، غیر آباد کنویں۔
ماضی میں جب کسان دور دراز کھیتوں میں کام کرتے تھے، تو انہوں نے اپنی اور اپنے جانوروں کی پانی کی ضروریات کے لیے یہ کنویں کھودے۔ ان کے آس پاس سایہ دار درخت بھی لگا دیے گئے تاکہ گرمی میں کچھ پناہ میسر آ سکے۔ میں خود گواہ ہوں کہ میرے بچپن میں ہم ان کنووں سے پانی پیتے، جانور سیراب کرتے اور تھکن اتارتے تھے۔
لیکن آج زمانہ بدل چکا ہے۔ کھیتی باڑی میں مشینری آ چکی ہے، اور کسانوں کی زمینوں سے وابستگی کم ہو گئی ہے۔ اب یہ کنویں متروک ہو چکے ہیں—مگر خطرہ بن کر رہ گئے ہیں۔
یہ کنویں اکثر کھلے پڑے ہیں، جن کے ارد گرد کوئی حفاظتی دیوار نہیں، نہ ہی کوئی انتباہی نشانی۔ نتیجہ یہ کہ انسانی جانیں ان میں گر کر ضائع ہو جاتی ہیں، خاص طور پر بچے، بزرگ، ذہنی معذور یا جانور۔ چند سال قبل ڈھڈیال کے قریب ایک گاؤں میں ایک بچہ اسکول کے پرانے کنویں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا—ایسی خبریں وقتاً فوقتاً سننے کو ملتی ہیں، مگر کوئی جامع اقدام نہیں اٹھایا جاتا۔
میری عاجزانہ اپیل ہے:
1. فلاحی اداروں سے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ان کنووں کا سروے کریں اور ان کے گرد حفاظتی دیواریں بنوائیں۔
2. سوشل ورکرز، نمبردار، اور علاقائی قائدین سے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔
3. ضلع چکوال کی انتظامیہ، بالخصوص ڈی سی صاحبہ سے کہ وہ اسسٹنٹ کمشنرز کے ذریعے ہر یونین کونسل کے سیکریٹری کو یہ ذمہ داری سونپیں کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود غیر آباد کنوؤں کی نشاندہی کریں اور ایک رپورٹ تیار کر کے ضلعی حکومت کو بھجوائیں۔
4. پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پورے پنجاب کیلے ایک یہ حفاظتی منصوبہ تشکیل دے، اس سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں گی۔
5. میڈیا کے تمام اداروں سے کہ وہ اس "چھوٹے" مگر "جان لیوا" مسئلے کو اجاگر کریں—چاہے پرنٹ ہو، الیکٹرانک ہو یا سوشل میڈیا۔
میں تو اپنے گاؤں بھوبڑ میں رہتا ہوں
اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں اور چکوال شہر میں رہائش پذیر ہیں تو میری درخواست ہے کہ یہ اپیل ڈی سی چکوال تک پہنچائیں۔ یہ ایک عوامی خدمت ہے جس کے لیے ہمیں مل جل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے آپ کی ایک کاوش کسی کی جان بچا لے۔
آئیے، ہم سب مل کر ان خاموش موت کے گڑھوں کو تحفظ کے دائرے میں لائیں۔
کیونکہ انسانی جان—سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔
خوش رہیں دعائیں کریں
بابا بشیر بھوبڑ چکوال

کوئی تبصرے نہیں