”لاوارث بھگوال کی محرومیاں“
تحریر:جلیل نقوی
میرا پیارا گاؤں بھگوال آج بھی بنیادی مرکزِ صحت جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے، جو کہ نہ صرف افسوسناک بلکہ لمحہ فکریہ بھی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب بڑے شہروں میں جدید ہسپتال، مشینری اور ماہر ڈاکٹرز کی سہولتیں باآسانی دستیاب ہیں، وہیں میرے گاؤں کے باسی اب بھی معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے میلوں کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔جبکہ بھگوال کے رہائشیوں کے لیے یہ مسئلہ صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کی روزمرہ زندگی، معیشت اور ذہنی سکون پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
کسی بھی ہنگامی صورتحال میں، جیسے زچگی کا مسئلہ ہو یا اچانک بیماری، مقامی سطح پر کوئی سہولت نہ ہونے کے باعث مریضوں کو چکوال شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے، جوکہ کئی بار جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
خاص طور پر خواتین، بزرگوں اور بچوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ اکثر خاندان مالی مشکلات کے باعث بروقت علاج نہیں کروا پاتے، جس سے بیماری مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بنیادی مرکزِ صحت کا قیام صرف علاج تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ حفاظتی تدابیر، ویکسینیشن، اور عوامی آگاہی کا بھی ایک اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ تقریباً آٹھ سے دس ہزار ابادی والے بھگوال جیسے گاؤں میں اگر یہ سہولت موجود ہو تو نہ صرف بیماریوں کی شرح میں کمی آ سکتی ہے بلکہ لوگوں میں صحت کے متعلق شعور بھی بیدار کیا جا سکتا ہے۔
حکومت وقت بلخصوص عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان اس واضح فرق کو ختم کریں۔ بھگوال کے عوام بھی اتنے ہی حق دار ہیں جتنے کسی بڑے شہر کے رہائشی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے، اور اس حق سے محرومی کسی بھی معاشرے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بھگوال کے مکین آج بھی اسی امید پر زندہ ہیں کہ ایک دن ان کے گاؤں میں بھی صحت کی بنیادی سہولتیں میسر ہوں گی، اور انہیں علاج کے لیے دربدر نہیں
ہونا پڑے گا۔

کوئی تبصرے نہیں