پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) چکوال کا اہم اجلاس

 


پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن چکوال کا جنرل باڈی اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے ڈاکٹرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کا واحد ایجنڈا FBR کی جانب سے ڈاکٹرز کے آڈٹ اور نجی کلینکس میں POS سسٹم لازمی نصب کرنے کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات اور نوٹسز پر شدید تحفظات کا اظہار کرنا تھا۔


اجلاس میں ڈاکٹر برادری نے متفقہ طور پر درج ذیل مؤقف اپنایا:


1۔ ڈاکٹرز اپنے ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرنے والے ذمہ دار شہری ہیں۔

اب صرف ڈاکٹرز کو الگ کرکے آڈٹ کے لیے ٹارگٹ کرنا اور POS کی تنبیہی و دھمکی آمیز نوٹسز بھیجنا واضح طور پر امتیازی سلوک اور ہراسانی کے مترادف ہے۔


2۔ اگر آڈٹ یا POS سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دی جائے تو یہ فیصلہ پورے ملک کے تمام طبقات پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔

صرف ایک طبقے—خصوصاً ڈاکٹرز—پر قانون کا نفاذ کرنا غیر منصفانہ، امتیازی اور ناقابلِ قبول ہے۔


3. نجی ڈاکٹرز کم وسائل اور کم معاوضے میں صحت کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

اور FBR کے مسلسل دباؤ اور ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا تو نجی ڈاکٹرز کے لیے خوف اور غیر یقینی کی حالت میں سروسز جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔


 4۔ FBR کو یاد دلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی علاج کے لیے نجی شعبے پر انحصار کرتی ہے۔

اگر نجی ڈاکٹرز خدمات محدود کرنے یا کلینکس بند کرنے پر مجبور ہوئے تو اس کے سنگین اور دور رس نتائج بھگتنا پڑیں گے جن کی مکمل ذمہ داری FBR پر ہوگی۔


5۔ PMA چکوال واضح کرتی ہے کہ ڈاکٹرز کے ساتھ امتیازی سلوک، یکطرفہ کارروائیاں اور ہراسانی کے اقدامات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔


پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن چکوال حکومتِ پاکستان اور FBR سے مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر برادری کے جائز خدشات کا فوری نوٹس لیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو صحت کے شعبے اور عوامی مفاد ک

و نقصان پہنچائیں۔

..........................

کوئی تبصرے نہیں

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©2024 ڈھڈیال نیوز
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.